ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار:ذات کی سرٹیفکٹ کےمسائل کو بہت جلد حل کیا جائے گا : وزیر شری راملو

کاروار:ذات کی سرٹیفکٹ کےمسائل کو بہت جلد حل کیا جائے گا : وزیر شری راملو

Wed, 17 Feb 2021 20:05:26    S.O. News Service

کاروار:17؍فروری (ایس اؤ نیوز)ضلع میں پسماندہ ذات اور طبقے کی ذات کی سرٹیفکٹ کولےکر جو تنازعہ چل رہاہے اس کو حل کرنےکے لئے قانونی ماہرین کے ساتھ گفتگو کی جائے گی۔ پھر اس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر برائے خاندانی فلاح وبہبودی شری راملو نے کیا۔

کاروار کا دورہ کرنے پر موصوف وزیر سے موگیر، گونڈا، مادیگا، ہسلر، سدی ، الیماری سمیت مختلف طبقات کے لیڈران نے متحدہ طورپر ملاقات  کرتے ہوئے اپنی شکایاتی تحریریں سونپیں۔ لیڈران سے میمورنڈم وصول کرنے کے بعد وزیر راملو نے کہاکہ ایک ہی طبقے کے افراد کو جب بھی ذات کی سرٹیفکٹ دی گئی ہے تو الگ الگ ذات کا اندراج ہواہے۔ کسی کو پسماندہ ذات لکھا گیا ہے تو کسی کو پسماندہ طبقہ کا درجہ دیاگیا ہے۔ یہ مسائل قانونی ہیں، قانونی و دستوری ماہرین سے ان نکات پر تفصیلی گفتگو اور سوچ بچار کیاجائے گا۔ اس کے بعد فیصلہ لیاجائے گااور کیا جائے گا کہ ان مسائل کو کس طرح حل کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند مہینوں میں اس تعلق سے  حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر لیڈران نے وزیر کے سامنے ذات کی سرٹیفکٹ کو لےکر ہورہی بیچیدگیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ محکمہ کے افسران کی طرف سے کافی پریشانیاں ہورہی ہیں۔ بچوں کے اسکولی اسناد میں خامیاں اور کمیاں نظر آرہی ہیں، لیڈران نے الزام لگایا کہ نچلے طبقات کو منصوبہ بند طریقے سے کچلا جارہا ہے۔

غلطی ہوئی ہے تو کارروائی ہوگی :محکمہ میں ایس سی پی اور ٹی ایس پی امداد کا غلط استعمال ہونے کے الزامات کے متعلق پوچھے جانے پراخبارنویسوں سےانہوں نے کہا کہ محکمہ میں 26ہزارروپئے دستیاب ہیں، اس کا غلط استعمال ہونا ممکن نہیں ہے، البتہ رقم دیگر منصوبہ جات کے لئے استعمال کئے جانےکےمتعلق شکایات موصول ہوئی ہیں، اس سلسلےمیں افسران سے کہاگیا ہے کہ وہ جانچ کریں ، اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو کارروائی کی جائے گی۔

قانونی حل کی تلاش ہے:ریاست کے ایک بڑے طبقے پنچم سالی لنگائیت کی طرف سے 2اے ریزرویشن کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ جب کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے۔ اس سلسلےمیں میں نے اور وزیر اعلیٰ نے سوچ بچارکیاہے۔ حل نکالنے کے متعلق غورکیاجارہاہے۔ 26اضلاع سے رپورٹ مانگی گئی ہے، ان رپورٹس کو دیکھنے کے بعد وزیر اعلیٰ فیصلہ لیں گے۔ اسی طرح دیگر طبقات کی طرف سے بھی ریزرویشن کی مانگ کی گئی  ہے، حکومت ان سب کا مطالعہ کرنے کے بعد کارروائی کرنے کا حکم دیں گے۔

اس موقع پر ضلع نگراں کاروزیر شیورام ہیبار،رکن کونسل شانتارام سدی، رکن اسمبلی روپالی نائک، ضلع پنچایت صد رجئے شری موگیر، ضلع ایس پی شیو پرکاش دیوراج، ضلع پنچایت سی ای اؤ ایم پریانگا، ایڈیشنل ڈی سی ایچ کے کرشنا مورتی موجود تھے۔


Share: